حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَی نَاضِحٍ لَنَا قَدْ أَعْيَا فَلَا يَکَادُ يَسِيرُ فَقَالَ لِي مَا لِبَعِيرِکَ قَالَ قُلْتُ عَيِيَ قَالَ فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيْ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ فَقَالَ لِي کَيْفَ تَرَی بَعِيرَکَ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَکَتُکَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ قَالَ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَکُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَی أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرهِ حَتَّی أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَی الْمَدِينَةِ حَتَّی أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنْ الْبَعِيرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي قَالَ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ هَلْ تَزَوَّجْتَ بِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا فَقَالَ هَلَّا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوْ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ قَالَ الْمُغِيرَةُ هَذَا فِي قَضَائِنَا حَسَنٌ لَا نَرَی بِهِ بَأْسًا
اسحق جریر مغریرہ شعبی جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میدان جنگ میں تھا اسی میدان میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے ملے اور میں اپنے پانی بھرنے والے اونٹ پر سوا رتھا جو تھک گیا تھا اور چل نہیں رہا تھا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوگیا ہے میں نے عرض کیا وہ تھک گیا ہے تو سرور عالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے عقبی رخ سے آکر اس کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی اور پھر آپ میرے اونٹ کے سامنے چلتے رہے اور فرمایا اب تمہارے اونٹ کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا یہ تو بہتر ہوگیا ہے اور دراصل اس کو آپ کی برکت حاصل ہو گئی ہے فرمایا کہ تم اس کو میرے ہاتھ بیچو گے؟ تو میں شرمایا چونکہ میرے پاس پانی بھرنے کے لئے اور کوئی اونٹ نہیں تھا لیکن اسکے باوجود میں نے ہاں کہہ دی تو سرور عالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تو تم اس کو بیچ ڈالو پھر میں نے اس کو اس شرط پر فروخت کردیا کہ مدینہ تک اس پر سواری کروں گا پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میری حال میں شادی ہوئی ہے اور میں نے آپ سے اجازت طلب کی اور آپ نے مجھے اجازت دے دی، چناچہ میں اپنے ساتھیوں سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گیا اور سب سے پہلے مدینہ میں مجھے میرے ماموں ملے اور انہوں نے اسی اونٹ کا حال پوچھا تو سارا ماجرا میں نے ان کو کہہ دیا اور انہوں نے پورا واقعہ سن کر مجھے ملامت کی اور جس وقت میں نے رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم سے روانگی کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ اے جابر تو نے کنواری سے شادی کی ہے یا شادی شدہ سے تو میں نے کہا شادی شدہ سے- جس پر آپ نے فرمایا تم نے کنواری سے شادی کی ہوتی تاکہ تم دونوں آپس میں کھیلتے میں نے کہا یا رسول ﷲ! میرے والد نے وفات پائی یا شہید ہوئے اور میری چھوٹی بہنیں ہیں مجھے برا لگا کہ میں انہی کی طرح عورت سے شادی کروں جو نہ ان کو ادب سکھائے گی اور نہ ان کی خدمت کر سکے گی اس لئے میں نے ثیبہ سے شادی کرلی جو ان کی خدمت کرے اور ان کو سلیقہ مند بنائے اور پھر جب رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے تو دوسرے دن میں اپنا وہ اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے اس کی قیمت مجھے عنایت فرمائی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس کردیا مغیرہ کہتے ہیں کہ ہماری رائے میں یہ بیع بہت اچھی ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = امام سے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 218
ٹوٹل حدیث نمبر 2754
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
اسحق جریر مغریرہ شعبی جابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میدان جنگ میں تھا اسی میدان میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے ملے اور میں اپنے پانی بھرنے والے اونٹ پر سوا رتھا جو تھک گیا تھا اور چل نہیں رہا تھا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوگیا ہے میں نے عرض کیا وہ تھک گیا ہے تو سرور عالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے عقبی رخ سے آکر اس کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی اور پھر آپ میرے اونٹ کے سامنے چلتے رہے اور فرمایا اب تمہارے اونٹ کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا یہ تو بہتر ہوگیا ہے اور دراصل اس کو آپ کی برکت حاصل ہو گئی ہے فرمایا کہ تم اس کو میرے ہاتھ بیچو گے؟ تو میں شرمایا چونکہ میرے پاس پانی بھرنے کے لئے اور کوئی اونٹ نہیں تھا لیکن اسکے باوجود میں نے ہاں کہہ دی تو سرور عالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تو تم اس کو بیچ ڈالو پھر میں نے اس کو اس شرط پر فروخت کردیا کہ مدینہ تک اس پر سواری کروں گا پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میری حال میں شادی ہوئی ہے اور میں نے آپ سے اجازت طلب کی اور آپ نے مجھے اجازت دے دی، چناچہ میں اپنے ساتھیوں سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گیا اور سب سے پہلے مدینہ میں مجھے میرے ماموں ملے اور انہوں نے اسی اونٹ کا حال پوچھا تو سارا ماجرا میں نے ان کو کہہ دیا اور انہوں نے پورا واقعہ سن کر مجھے ملامت کی اور جس وقت میں نے رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم سے روانگی کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ اے جابر تو نے کنواری سے شادی کی ہے یا شادی شدہ سے تو میں نے کہا شادی شدہ سے- جس پر آپ نے فرمایا تم نے کنواری سے شادی کی ہوتی تاکہ تم دونوں آپس میں کھیلتے میں نے کہا یا رسول ﷲ! میرے والد نے وفات پائی یا شہید ہوئے اور میری چھوٹی بہنیں ہیں مجھے برا لگا کہ میں انہی کی طرح عورت سے شادی کروں جو نہ ان کو ادب سکھائے گی اور نہ ان کی خدمت کر سکے گی اس لئے میں نے ثیبہ سے شادی کرلی جو ان کی خدمت کرے اور ان کو سلیقہ مند بنائے اور پھر جب رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے تو دوسرے دن میں اپنا وہ اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے اس کی قیمت مجھے عنایت فرمائی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس کردیا مغیرہ کہتے ہیں کہ ہماری رائے میں یہ بیع بہت اچھی ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = امام سے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 218
ٹوٹل حدیث نمبر 2754
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment