حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَفَّتْ أَزْوَادُ النَّاسِ وَأَمْلَقُوا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ إِبِلِهِمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا بَقَاؤُکُمْ بَعْدَ إِبِلِکُمْ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادِ فِي النَّاسِ يَأْتُونَ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَدَعَا وَبَرَّکَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَاحْتَثَی النَّاسُ حَتَّی فَرَغُوا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ
بشر حاتم یزید سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں کا زاد راہ کم ہوگیا اور سب تہی دست ہو گئے تو آپ سے اونٹ کاٹنے کی اجازت طلب کرنے حاضر ہوئے آپ نے ان کو اجازت دے دی اس کے بعد حضرت عمر سے ان لوگوں نے مل کر پوری کیفیت بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ اونٹوں کے بعد تم کس طرح زندہ رہو گے چناچہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں حاضر ہوکر کہا یا رسول ﷲ اونٹوں کے بعد ان کی زندگی کیسے کٹے گی؟ تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ اپنا بچا ہوا زاد راہ ہمارے پاس لے آئیں چناچہ ان کے زاد راہ لانے کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور ﷲ سے برکت طلب کی اور ان کے ناشتے دان منگوائے اور لوگوں نے ان کو بھرنا شروع کیا جب لوگ اپنے ناشتہ دان بھرنے سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور میں ﷲ کا رسول ہوں
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = جہاد میں زاد راہ لے جانے کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 233
ٹوٹل حدیث نمبر 2769
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
بشر حاتم یزید سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں کا زاد راہ کم ہوگیا اور سب تہی دست ہو گئے تو آپ سے اونٹ کاٹنے کی اجازت طلب کرنے حاضر ہوئے آپ نے ان کو اجازت دے دی اس کے بعد حضرت عمر سے ان لوگوں نے مل کر پوری کیفیت بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ اونٹوں کے بعد تم کس طرح زندہ رہو گے چناچہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے دربار رسالت میں حاضر ہوکر کہا یا رسول ﷲ اونٹوں کے بعد ان کی زندگی کیسے کٹے گی؟ تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ اپنا بچا ہوا زاد راہ ہمارے پاس لے آئیں چناچہ ان کے زاد راہ لانے کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور ﷲ سے برکت طلب کی اور ان کے ناشتے دان منگوائے اور لوگوں نے ان کو بھرنا شروع کیا جب لوگ اپنے ناشتہ دان بھرنے سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور میں ﷲ کا رسول ہوں
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = جہاد میں زاد راہ لے جانے کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 233
ٹوٹل حدیث نمبر 2769
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment