کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
مریض کس حد تک کی بیماری میں حاضر باجماعت ہو
حدیث نمبر
630
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَذَکَرْنَا الْمُوَاظَبَةَ عَلَی الصَّلَاةِ وَالتَّعْظِيمَ لَهَا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأُذِّنَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِکَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَخَرَجَ أَبُو بَکْرٍ فَصَلَّی فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ کَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ مِنْ الْوَجَعِ فَأَرَادَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَکَانَکَ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّی جَلَسَ إِلَی جَنْبِهِ قِيلَ لِلْأَعْمَشِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاتِهِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ بِرَأْسِهِ نَعَمْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بَعْضَهُ وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَکْرٍ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا
عمرو بن حفص، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم اسود روایت کرتے ہیں کہ ہم عائشہ کے پاس بیٹھے ہوئے نماز کی پانبدی اور اس کی بزرگی کا بیان کر رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی مبتلا ہوئے اور نماز کا وقت آیا اور اذان ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں آپ سے عرض کیا گیا کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو شدت غم سے وہ نماز نہ پڑھا سکیں گے دوبارہ پھر آپ نے فرمایا پھر لوگوں نے وہی عرض کیا سہ بارہ آپ نے فرمایا اور فرمایا کہ تم یوسف کو گھیرے میں لینے والی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نمازپڑھا دیں چناچہ کہہ دیا گیا ابوبکر نماز پڑ ھانے چلے اتنے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ میں سہارا لے کر نکلے گویا میں اب بھی آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں پیروں کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ سبب ضعف مرض کے زمین پر گھسٹتے جاتے تھے پس ابوبکر نے چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو پھر آپ لائے گئے یہاں تک کہ ابوبکر کے پہلو میں آپ بیٹھ گئے اعمش سے پوچھا گیا کہ کیا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور ابوبکر آپ کی نماز کی اقتدا کرتے تھے اور لوگ ابوبکر کی نماز کی اقتدا کرتے تھے تو اعمش نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں اور ابومعاویہ نے اتنے لفظ زیادہ روایت کئے کہ ابوبکر آپ کے بائیں جانب بیٹھ گئے اور ابوبکر کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment