Saturday, November 13, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:716


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
اگر نماز میں کوئی خاص واقعہ پیش آجائے یا سامنے تھوک یا کوئی چیز دیکھے تو کیا یہ ٹھیک ہے کہ دزدیدہ نظر سے دیکھے؟
حدیث نمبر
716
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ رَأَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيْ النَّاسِ فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ رَوَاهُ مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ
قتیبہ، لیث، نافع، ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ (کی جانب) میں کچھ تھوک دیکھا اس وقت آپ لوگوں کے آگے (کھڑے ہوئے) نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اس کو چھیل ڈالا- اس کے بعد جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو یہ خیال کر لے کہ ﷲ اس کے منہ کے سامنے ہے- کوئی شخص نماز میں اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے، اس کو موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی رواد نے روایت کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment