کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
تمام نمازوں میں خواہ وہ سفر میں ہوں یا حضر میں سری ہوں یا جہری ہوں، امام اور مقتدی کے لیے قرأت کے واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر
720
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ يُصَلِّي کَمَا صَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي فَقَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَلِکَ فِي صَلَاتِکَ کُلِّهَا
محمد بن بشار، یحییٰ، عبید ﷲ ، سعید بن ابی سعید، ابی سعید (مقبری) ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (ایک مرتبہ) مسجد میں تشریف لے گئے اسی وقت ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جا نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی- وہ لوٹ گیا اور اس نے نماز پڑھی جیسے اس نے پہلے پڑھی، پھر آیا اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے فرمایا کہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی- (اسی طرح) تین مرتبہ (ہوا) تب وہ بولا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے بہتر ادا نہیں کرسکتا- لہٰذا آپ مجھے تعلیم کر دیجئے، آپ نے فرمایا جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، اس کے بعد جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس کو پڑھو، پھر رکوع کرو، یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان سے ہو جاؤ، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں اطمینان سے ہوجاؤ، پھر سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment