کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
فجر کی نماز میں قرات کا بیان۔
حدیث نمبر
733
حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَی أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَی أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَائِ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ وَکَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَی الْمِائَةِ
آدم، شعبہ، سیار بن سلامہ کا بیان ہے کہ میں اور میرے باپ ابوبر زہ اسلمی کے پاس گئے اور ان سے نمازوں کے اوقات پوچھے، تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز جب آفتاب ڈھل جاتا تھا، اس وقت پڑھتے تھے اور عصر کی ایسے وقت پڑھتے تھے کہ آدمی مدینہ کی انتہا تک لوٹ کر جا سکے اور آفتاب میں زردی نہ آئی ہو، سیار کہتے ہیں، اور میں بھول گیا کہ مغرب کے بارے میں ابوبرزہ نے کیا کہا، اور آپ عشاء کی تاخیر میں ایک تہائی رات تک کچھ پرواہ نہ کرتے تھے، اور عشاء سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور صبح کی نماز آپ ایسے وقت پڑھ لیتے تھے کہ آدمی فارغ ہوکر اپنے پاس والے کو پہچانتا تھا اور آپ دونوں رکعتیں یا ہر ایک میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو تک پڑھتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment