کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
نماز فجر کی قرأت میں بلند آواز سے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
735
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَی قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَکُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالُوا مَا حَالَ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ إِلَّا شَيْئٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ فَانْصَرَفَ أُولَئِکَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ فَهُنَالِکَ حِينَ رَجَعُوا إِلَی قَوْمِهِمْ وَقَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَی نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ
مسدد، ابوعوانہ، ابوبشر، سعید بن جبیر، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن) نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ سوق عکاظ کی طرف ارادہ کرکے چلے اور (اس وقت) شیاطین کو آسمان کی خبریں لانے سے روک دیا گیا تھا، اور ان پر شعلے پھینکے جاتے تھے، پس شیاطین اپنی قوم کے پاس لوٹ آئے، قوم نے کہا تمہارا کیا حال ہے؟ اب کی مرتبہ کوئی خبر نہیں لائے، شیاطین نے کہا کہ ہمارے لئے آسمان تک جانا ممنوع کردیا گیا اور اب ہمارے اوپر شعلے پھینکے جاتے ہیں، قوم نے کہا کہ تمہارے آسمان تک جانے کی رکاوٹ کی کوئی خاص ایسی نئی وجہ پیدا ہوئی ہے، جو حال ہی میں ظاہر ہوئی ہے، لہٰذا زمین کے مشرق اور مغرب کی تمام جوانب میں سفر کرو اور دیکھو وہ کیا چیز ہے، جس نے تمہارے اور آسمانی خبر کے درمیان رکاوٹ ڈال دی (چناچہ وہ لوگ اس تلاش میں نکلے) تو جو لوگ ان میں سے تہامہ کی طرف آئے تھے وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ اس وقت مقام نخلہ میں سوق عکاظ جا رہے تھے (چناچہ جب یہ جنات وہاں پہنچے ہیں تو) آپ (اس وقت) اپنے اصحاب کے ہمراہ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، جب ان جنوں نے قرآن کو سنا تو اس کو سنتے رہے اور کہنے لگے کہ خدا کی قسم یہی ہے جس نے تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان میں رکاوٹ ڈال دی، پس وہیں سے اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے، تو کہنے لگے کی اے ہماری قوم (کے لوگوں!) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے، پس ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم ہرگز اپنے پروردگار کا کسی کو شریک نہ بنائیں گے، پس ﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیتیں نازل فرمائیں (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ) اور آپ پر جنوں کی گفتگو نقل کی گئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment