کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جمعہ کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے ثناء کے بعد خطبہ میں اما بعد کہا۔
حدیث نمبر
875
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ سَبْيٍ فَقَسَمَهُ فَأَعْطَی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالًا فَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِينَ تَرَکَ عَتَبُوا فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ أَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الَّذِي أُعْطِي وَلَکِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَی فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَکِلُ أَقْوَامًا إِلَی مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ الْغِنَی وَالْخَيْرِ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِکَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ
محمد بن معمر، ابوعاصم، جریری بن حازم، حسن بصری، عمروبن تغلب روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو خبر لی کہ جن لوگوں کو نہیں دی وہ ناراض ہیں، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا- امابعد بخدا میں کسی کو دیتا ہوں اور کسی کو نہیں دیتا ہوں- اور جسے میں نہیں دیتا ہوں وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے، جسے میں دیتا ہوں، لیکن میں ان لوگوں کو دیتا ہوں، جن کے دلوں میں بے چینی اور گھبراہٹ دیکھتا ہوں، اور جنہیں میں نیں دیتا ہوں ان لوگوں میں میں اس غنی اور بھلائی کے حوالہ کردیتا ہوں، جو ﷲ تعالیٰ نے ان کے لدوں میں رکھی ہے، اور انہی میں عمرو بن تغلب بھی ہے، عمرو بن تغلب نے کہا کہ و ﷲ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے عوض مجھے سرخ اونٹ بھی محبوب نہیں ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment