کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
خطبہ عید میں امام اور لوگوں کے کلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
930
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ مَنْ صَلَّی صَلَاتَنَا وَنَسَکَ نُسْکَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُکَ وَمَنْ نَسَکَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْکَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَکْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَی الصَّلَاةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَکَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ شَاةُ لَحْمٍ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي قَالَ نَعَمْ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ
مسدد، ابوالاحوص، منصور بن معتمر، شعبی، براء بن عازب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگوں کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے بعد یوم نحر میں خطبہ دیا تو آپ نے فرمایا کہ جس نے میری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح اس نے قربانی کی، تو اس کی قربانی صحیح ہوئی اور جس نے نماز سے پہلے زبح کیا، تو یہ گوشت بکری کا ہے، ابوبردہ بن نیاز کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! میں نے تو عیدگاہ جانے سے پہلے ہی قربانی کردی اور میں نے سمجھا کہ آج کھانے اور پینے کا دن ہے، اس لئے میں نے جلدی کی اور میں خود کھایا اور اپنے گھر والوں کو اور پڑسیوں کو کھلایا، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو گوشت کی بکری ہے، ابوبردہ نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کا بچہ ہے جو گوشت کی دوبکریوں سے زیادہ بہتر ہے کیا وہ میری طرف سے کافی ہو جائےگا؟ آپ نے فرمایا ہاں لیکن تمہارے بعد کسی دوسرے کیلئے کافی نہ ہوگا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment