Wednesday, November 17, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:869


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جمعہ کا بیان
باب
منبر پر خطبہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر
869
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الْإِسْکَنْدَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدْ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی فُلَانَةَ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ مُرِي غُلَامَکِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَائِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَائَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی عَلَيْهَا وَکَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَکَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَی فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبد ﷲ بن عبدالقاری قرشی اسکند درانی، ابوحازم بن دینار روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی کے پاس آئے اور وہ اختلاف کر رہے تھے منبر کے متعلق، کہ اس کی لکڑی کس درخت کی تھی، تو ان لوگوں نے ان (سہل بن سعد ساعدی) سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ و ﷲ میں جانتا ہوں کہ منبر کس درخت کی لکڑی کا تھا، اور بخدا میں نے پہلے ہی دن اس کو دیکھا، وہ رکھا گیا تھا اور سب سے پہلے دن جب اس پر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی فلاں عورت کا نام سہل نے بیان بھی کیا، کے پاس کہلا بھیجا کہ تم اپنے بڑھئی لڑکے کو حکم دو کہ وہ میرے واسطے ایسی لکڑیاں بنادے کہ جب میں لوگوں سے مخاطب ہوں، تو اس پر بیٹھوں، چناچہ اس عورت نے اس لڑکے کو اس کے بنانے کا حکم دیا، تو غابہ کے جھا کے درخت کا بنایا، پھر اس عورت کے پاس لے کر یا تو اس عورت نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور کتبیر کہی، پھر اسی پر رکوع بھی کیا بعد ازاں الٹے پاں پھرے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر واپس اپنی جگہ پر گئے، جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اے لوگو میں نے ایسا اس لئے کیا کہ تم میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھ لو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment