کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تقدیر کا بیان
باب
اللہ تعالی انسان اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر
6179
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِکُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا
علی بن حفص، بشر بن محمد، عبد ﷲ ، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، اس نے کہا کہ وہ دھواں ہے، آپ نے فرمایا خاموش رہ تو اپنی تقدیر سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے، عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اجازت دیجئے تو میں اس کی گردن اڑادوں، آپ نے فرمایا کہ اس کوچھوڑ دو اگر یہ وہی ہے تو ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسکے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment