کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
حدیث نمبر
6925
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ أَوْ أَبِي نُعْمٍ شَکَّ قَبِيصَةُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بُعِثَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ و حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي کِلَابٍ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ فَتَغَيَّظَتْ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ فَقَالُوا يُعْطِيهِ صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا قَالَ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ کَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ فَيَأْمَنُنِي عَلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَتْلَهُ أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَمَنَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
قبیصہ، سفیان، سفیان کے والد، حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں تھوڑا سا سونا بھیجا گیا تو آپ نے اس کو چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا (دوسری سند) اسحق بن نصر عبدالرزاق، سفیان اپنے والد سے وہ ابن نعم سے وہ حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے- حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ نے اس کو اقرع بن حابس کو جو حنظلی اور بن مجاشع کا ایک فرد تھا عینیہ بن بدر قراری اور علقمہ بن علاثہ جو عامری بنی کلاب کا ایک شخص تھا اور زید خیل کو جو طائی اور بنی نبھان کا ایک فرد تھا، تقسیم کر دیا، قریش اور انصار غصہ ہوئے اور کہنے لگے کہ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں- آپ نے فرمایا کہ میں ان کی تالیف قلوب کرتا ہوں- ایک شخص آیا کہ اس کی دونوں آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی گھنی دونوں گال اٹھے ہوئے اور سر منڈائے ہوئے تھا اس نے کہا اے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ﷲ سے ڈر، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ کی اطاعت کون کرے گا جب کہ میں ہی اس کی نافرمانی کروں، اس نے مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے اور تم مجھ کو امین نہیں سمجھتے ہو- قوم کے ایک شخص غا لبا خالد بن ولید رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کے قتل کرنے کی اجازت چاہی لیکن آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا، تو آنحضرت نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے اور قرآن انکی حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستی کو چھوڑ دیں گے، اگر میں ان کا زمانہ پا لوں تو ان لوگوں کو قوم عاد کی طرح قتل کر دوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment