Saturday, October 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1718,TotalNo:6369


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
جوشخص کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہوا جس میں حد نہیں۔
حدیث نمبر
6369
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ احْتَرَقْتُ قَالَ مِمَّ ذَاکَ قَالَ وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ لَهُ تَصَدَّقْ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْئٌ فَجَلَسَ وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا وَمَعَهُ طَعَامٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ فَقَالَ هَا أَنَا ذَا قَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ عَلَی أَحْوَجَ مِنِّي مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ قَالَ فَکُلُوهُ
قتیبہ، لیث، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کرلیا، پھراس نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اور لیث نے بواسطہ عمرو بن حارث، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عباد بن عبد ﷲ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں ہلاک ہوگیا، آپ نے پوچھا کیونکر؟ اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کرلیا، آپ نے اس سے فرمایا کہ صدقہ کر اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں، پھر وہ بیٹھ گیا آپ کے پاس ایک شخص گدھا ہانکتا ہوا آیا اور اسکے پاس غلہ تھا، عبدالرحمن نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ کون سا غلہ تھا جو آپ کی خدمت میں لے کر آیا تھا آپ نے فرمایا وہ ہلاک ہونے والا کہاں ہے اس نے کہا میں یہاں ہوں آپ نے فرمایا کہ اسے لے کر خیرات کردو اس نے پوچھا کہ کیا اپنے سے زیادہ حاجت مند کو دوں؟ میرے گھر والوں کے پاس کھانا نہیں ہے، آپ نے فرمایا کہ اسے کھاؤ، ابوعبد ﷲ (بخاری) نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے، جس میں اطعم اھلک کے الفاظ ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment