Saturday, October 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1728,TotalNo:6379


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس کی غیرموجودگی میں امام حد لگانے کا حکم دے
حدیث نمبر
6379
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِکِتَابِ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِنْ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْکَ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا فَغَدَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا
عاصم بن علی، ابن ابی ذئب، زہری، عبید ﷲ ، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ وزید بن خالد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ایک اعرابی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا کہ یا رسول ﷲ ﷲ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کردیں، پھرمخالف نے کھڑے ہوکر کہا کہ اس نے ٹھیک کہا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کردیں، میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا، اس کی بیوی سے میرے بیٹے نے زنا کیا، لوگوں نے کہا میرے بیٹے کو رجم ہے میں نے سو بکریاں دے کر اور ایک لونڈی فدیہ میں دیدی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کروں گا، بکریاں اور لونڈی تو تمہیں واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سودرے اور ایک سال جلاوطنی ہے اور تم اے انیس اس کی بیوی کے پاس صبح جاؤ اور اسے رجم کرو چناچہ انیس صبح گئے اور اس کی بیوی کو رجم کردیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment