کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قسموں اور نذروں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کس طرح کی تھی؟'الخ
حدیث نمبر
6195
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا فَجَائَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ لَهُ أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيکَ وَأُمِّکَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَی لَکَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَی لَهُ أَمْ لَا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدُکُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَائَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَی عُنُقِهِ إِنْ کَانَ بَعِيرًا جَائَ بِهِ لَهُ رُغَائٌ وَإِنْ کَانَتْ بَقَرَةً جَائَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ کَانَتْ شَاةً جَائَ بِهَا تَيْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّی إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِکَ مَعِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلُوهُ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ، ابی حمیدساعدی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کوعامل بنا کر بھیجا، عامل جب اپنے کام سے فارغ ہوچکا تو آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول ﷲ ، یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ بھیجا گیا ہے، آپ نے فرمایا کہ تم اپنے باپ اور اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے رہے پھر دیکھتے کہ تجھے ہدیہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، پھر رسول ﷲ عشاء کے وقت نماز کے بعد کھڑے ہوئے، تشہد پڑھا اور ﷲ کی تعریف بیان کی جس کاوہ مستحق ہے، پھرفرمایا، امابعد، عامل کا کیا حال ہے کہ ہم اسے عامل بنا کر بھیجتے ہیں وہ ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی تحصیل کا ہے اور یہ ہمیں ہدیہ بھیجا گیا ہے، وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھتا پھردیکھے کہ اسے ہدیہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے کہ تم میں سے جوشخص بھی کوئی چیز اس میں رکھ لے گا تو قیامت کے دن وہ اس چیز کو اس طرح لے کر آئے گا کہ وہ چیز اس کی گردن پر سوار ہوگی، اگروہ اونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوا اور اگر وہ گائے ہے تو وہ بولتی ہوئی اور بکری ہے تو وہ ممیاتی ہوئی آئے گی، میں نے (تم لوگوں) کو پہنچا دیا ہے، ابوحمید کا بیان ہے کہ پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ ہم لوگوں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، ابوحمید نے کہا کہ میرے ساتھ اس کوزید بن ثابت نے بھی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، ان سے پوچھ لو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment