کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے بے حیائی کے کام اور آلودگی اور تہمت کو بغیر گواہ کے بیان کیا
حدیث نمبر
6396
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذُکِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِکَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْکُو أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَکَانَ الَّذِي ادَّعَی عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدِلًا کَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَکَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ فَقَالَ لَا تِلْکَ امْرَأَةٌ کَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوئَ
عبد ﷲ بن یوسف، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو لعان کر نے کا ذکر کیا گیا تو قاسم بن عدی نے اس کے متعلق کچھ بات کہی، پھر واپس چلا گیا، اور اس کے پاس اس کی قوم کا ایک آدمی آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اسنے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا تو عاصم نے کہا کہ میں اس میں صرف بڑے بول کے باعث مبتلا کیا گیا، چناچہ وہ اس کونبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے اور اس آدمی کے متعلق بیان کیا، جس کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا، وہ شخص خود تو زرد گم گوشت والا سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے متعلق دعوی کیا تھا، کہ اس کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، گندم گوں بھری پنڈلیوں والا اور پر گوشت تھا تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو ظاہر کردے چناچہ اس عورت نے سال کے ہم صورت بچہ جنا جس کے متعلق اس کے شوہر نے بیان کیا تھا، اس کو اپنی بیوی کے پاس پایا تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا، ایک شخص نے جواس مجلس میں تھا ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا وہ وہی عورت تھی جس کے متعلق نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر گواہ کے سنگسار کرتا تو اس کوسنگسار کرتا انہوں نے کہا نہیں بلکہ وہ عورت تھی جواسلام میں اعلانیہ برائی کرتی تھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment