کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگ کرنے والوں کی آنکھیں پھڑوانے کا بیان
حدیث نمبر
6356
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُکْلٍ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ عُکْلٍ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَشَرِبُوا حَتَّی إِذَا بَرِئُوا قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّی جِيئَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ هَؤُلَائِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَکَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
قتیبہ بن سعید، حماد، ایوب، ابوقلابہ، حضرت انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں عکل کی ایک جماعت یا کہا عرینہ کی ایک جماعت (ابوقلابہ کا بیان ہے کہ وہ عکل ہی کے تھے) مدینہ آئی، ان کے واسطے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنیوں کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ ان اونٹنیوں کے پاس جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، انہوں نے پیا یہاں تک کہ جب وہ تندرست ہوگئے تو چرواہے کو قتل کر ڈالا اور مویشیوں کو لے بھاگے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو صبح کے وقت خبر ملی تو ان کے پیچھے تلاش کرنے کے لئے آدمی بھیجے، ابھی دن بلند بھی نہیں تھا کہ وہ پکڑ کر لائے گئے، آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دینے کا حکم دیا پھر ان کی آنکھوں کو پھڑوا دیا، اور انہیں گرم زمین میں ڈال دیا، وہ پانی مانگتے رہے لیکن انہیں نہیں دیا گیا، ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ جماعت ہے جس نے چوری کی تھی اور قتل کیا تھا اور ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے اور ﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment