Saturday, October 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1821,TotalNo:6472


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مرتدوں اور دشمنوں سے توبہ کرانا اور ان سے جنگ کرنا اور اس آدمی کا گناہ جس نے اﷲ کے ساتھ شرک کیا اور دنیا و آخرت میں اس کی سزا کا بیان
باب
تاویل کرنے والوں کے متعلق جوروایتیں منقول ہیں
حدیث نمبر
6472
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ فُلَانٍ قَالَ تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِحِبَّانَ لَقَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَکَ عَلَی الدِّمَائِ يَعْنِي عَلِيًّا قَالَ مَا هُوَ لَا أَبَا لَکَ قَالَ شَيْئٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ قَالَ مَا هُوَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ وَکُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ حَاجٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ هَکَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ حَاجٍ فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی الْمُشْرِکِينَ فَأْتُونِي بِهَا فَانْطَلَقْنَا عَلَی أَفْرَاسِنَا حَتَّی أَدْرَکْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَی بَعِيرٍ لَهَا وَقَدْ کَانَ کَتَبَ إِلَی أَهْلِ مَکَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقُلْنَا أَيْنَ الْکِتَابُ الَّذِي مَعَکِ قَالَتْ مَا مَعِي کِتَابٌ فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا فَقَالَ صَاحِبَايَ مَا نَرَی مَعَهَا کِتَابًا قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ عَلِمْنَا مَا کَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَلَفَ عَلِيٌّ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّکِ فَأَهْوَتْ إِلَی حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِکِسَائٍ فَأَخْرَجَتْ الصَّحِيفَةَ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا حَمَلکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَنْ لَا أَکُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَکِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَکُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يُدْفَعُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِکَ أَحَدٌ إِلَّا لَهُ هُنَالِکَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالَ صَدَقَ لَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا قَالَ فَعَادَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ دَعْنِي فَلِأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَمَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ أَوْجَبْتُ لَکُمْ الْجَنَّةَ فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ خَاخٍ أَصَحُّ وَلَکِنْ کَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ حَاجٍ وَحَاجٍ تَصْحِيفٌ وَهُوَ مَوْضِعٌ وَهُشَيْمٌ يَقُولُ خَاخٍ
موسیٰ بن اسمعیل، ابوعوانہ، حصین، فلان (سعد بن عبیدہ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمن اور حبان بن عطیہ میں جھگڑا ہوا تو ابوعبدالرحمن نے حبان سے کہا کہ میں اس بات کو جانتا ہوں جس نے تمہارے دوست یعنی حضرت علی کو خونریزی پر دلیر کردیا ہے، حبان نے کہا کہ وہ کیا ہے تیرا باپ نہ ہو، ابوعبدالرحمن نے کہا کہ میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا ہے، حبان نے کہا کہ وہ بتا، کیا ہے، ابوعبدالرحمن نے کہا وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے زبیر اور ابومرثد کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا اور ہم سب سوار تھے، آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جاؤ ، یہاں تک کہ روضہ حاج میں پہنچو، ابوسلمہ کا بیان ہے کہ ابوعوانہ نے حاج کا لفظ ہی کہا تھا وہاں ایک عورت ہوگی جس کے پاس حاطب بن بلتعہ کا خط مشرکین کے نام ہوگا، اس کومیرے پاس لے آؤ، چناچہ ہم لوگ اپنے گھوڑوں پر چلے یہاں تک کہ ہم نے اسے وہیں پالیا، جہاں کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا تھا- وہ اپنے اونٹ پرچلی جارہی تھی، (حاطب) نے اہل مکہ کے نام نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی روانگی کے متعلق لکھا تھا کہ ہم نے کہا کہ کہاں ہے تیرے پاس خط ہے ہم نے اس کے اونٹ کوبٹھا دیا، اور اس کے کجاوے میں تلاش کیا لیکن ہمیں نہیں ملا، میرے ساتھی نے کہا کہ ہم اس کے پاس کوئی خط نہیں دکھائی دیتا، حضرت علی کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ نہیں کہا، حضرت علی نے قسم کھائی اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے تو وہ خط نکال ورنہ میں تجھے ننگا کردوں گا، وہ عورت کمر کی طرف جھکی اور کمر سے ایک چادر باندھی ہوئی تھی اس میں سے خط نکالا، یہ لوگ اسکو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے حاضر ہوئے، حضرت عمرنے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس نے ﷲ اور اس کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑادوں، آپ نے فرمایا کہ اے حاطب تجھے اس چیز پرکس نے آمادہ کیا، حاطب نے عرض کیا یا رسول ﷲ میرے لئے کیا ہے کہ ﷲ اور اس کے رسول پرایمان لانے والا نہ رہو، لیکن میں نے چاہا کہ اس قوم پر میرا کچھ احسان ہو تاکہ میرے اہل اور مال کی حفاظت ہو، اور آپ کے اصحاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے کچھ لوگ وہاں نہ ہوں، ﷲ ان کے ذریعے ان کے اہل وعیال کی حفاظت کرتا ہے، آپ نے فرمایا کہ ٹھیک کہا، تم لوگ سوائے خیر کے اور کوئی بات نہ کہو، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے دوبارہ عرض کیا اور کہا کہ اس نے ﷲ اور اس کے رسول سے خیانت کی آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑادوں، آپ نے کہا یہ بدری نہیں ہے اور کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ﷲ ان کے دلوں کے حال سے آگاہ ہے، اور فرما دیا جو چاہو کرو، تمہارے لئے جنت واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں ڈب ڈبا گئیں اور کہا کہ ﷲ اور اس کارسول ہی زیادہ جانتے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment