کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مرتدوں اور دشمنوں سے توبہ کرانا اور ان سے جنگ کرنا اور اس آدمی کا گناہ جس نے اﷲ کے ساتھ شرک کیا اور دنیا و آخرت میں اس کی سزا کا بیان
باب
مرتد مرد اور مرتد عورت کا حکم اور ان سے توبہ کرانے کا بیان
حدیث نمبر
6458
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاکُ فَکِلَاهُمَا سَأَلَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَی مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی سِوَاکِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ فَقَالَ لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَکِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ إِلَی الْيَمَنِ ثُمَّ اتَّبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَی لَهُ وِسَادَةً قَالَ انْزِلْ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ مَا هَذَا قَالَ کَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ قَالَ اجْلِسْ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّی يُقْتَلَ قَضَائُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاکَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي
مسدد، یحییٰ، قرہ بن خالد، حمید بن ہلال، ابوبردہ، حضرت موسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میرے ساتھ اشعریوں کے دوآدمی تھے، ایک تو میرے دائیں ہاتھ کی طرف اور دوسرا بائیں طرف تھا، اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، ان دونوں نے درخواست کی کہیں کا عامل مقرر کردیں، تو آپ نے فرمایا کہ اے ابوموسیٰ، یا فرمایا کہ عبد ﷲ بن قیس، ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ مین نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے انہوں نے مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتائی، اور نہ میں جانتا تھا کہ یہ دونوں کسی عہدہ کے لئے درخواست کریں گے، اور میں گویا آپ کومسواک کرتے دیکھ رہا تھا، جوآپ کے ہونٹوں میں دبائے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا کہ ہم درخواست کرنے والے کو کبھی عامل نہیں بناتے، لیکن اے ابوموسیٰ یا فرمایا کہ اے عبد ﷲ بن قیس، تم یمن کوجاؤ، پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل کو روانہ کیا، جب معاذ یمن پہنچے تو ابوموسیٰ نے انکے لئے بچھونا بچھایا اور کہا کہ اترو، تو اس وقت ایک آدمی کو ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا جو بندھا ہوا تھا، پوچھا یہ کیا ہے، کہا یہ یہودی تھا پھراسلام لایا، پھریہودی ہوگیا ابوموسیٰ نے کہا بیٹھ جاؤ ، انہوں نے کہا کہ اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک اس کوقتل نہ کیا جائے، ﷲ اور اسکے رسول کا یہی حکم ہے، تین باریہ کہا، چناچہ حکم قتل پر قتل کردیا گیا، پھر ہم نے شب بیداری کا تذکرہ کیا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو رات کوعبادت کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نیند میں اس چیز کی امید رکھتا ہوں جس کی بیداری میں رکھتا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment