کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
ارشاد باری تعالیٰ کہ اگر تم خطرناک جگہ پر ہو۔
حدیث نمبر
4186
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنْ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمْ الْإِمَامُ رَکْعَةً وَتَکُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّی الَّذِينَ مَعَهُ رَکْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَکَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا يُسَلِّمُونَ وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَيَقُومُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَکْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ فَيَکُونُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَإِنْ کَانَ خَوْفٌ هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِکَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَی أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُکْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا قَالَ مَالِکٌ قَالَ نَافِعٌ لَا أُرَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ذَکَرَ ذَلِکَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، نافع سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے کسی نے صلوۃ خوف پڑھنے کا طریقہ دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ امام آگے کھڑا ہو او رکچھ لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوں اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے کھڑے ہوں اور وہ نماز میں شامل نہ ہوں جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکیں تو پھر پیچھے ہٹ کر ان کی جگہ چلے جائیں جو نماز میں شامل نہیں ہوئے تھے اس کے بعد وہ لوگ آئیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں اب امام کو سلام پھیر دینا چاہئے کیونکہ وہ دونوں رکعات پڑھ چکا ہے اور دوسرے لوگ اپنی دوسری رکعت پوری کریں اور اس طرح سب کی دو رکعتیں پوری ہو جاتی ہیں اور اگر خوف کی حالت زیادہ شدید ہو تو پھر قبلہ رخ ہونا اور سوار و پیادہ ہونا بھی ضروری نہیں ہے، امام مالک فرماتے ہیں کہ نافع رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نے یہ (حدیث) آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہی سے روایت کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment