کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ ان کے ساتھ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا نبیوں سے آخر تک کی تفسیر
حدیث نمبر
4236
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَکَانَ فِي شَکْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَائِ وَالصَّالِحِينَ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
محمد بن عبد ﷲ بن جوشب، ابراہیم بن سعد، ان کے والد، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہر نبی کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو رہنے کے لئے پسند کرے جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ کی آواز میں کرختگی پیدا ہوگئی آپ فرما رہے تھے ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَائِ وَالصَّالِحِينَ﴾ چناچہ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو بھی اختیار ملا ہے اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے آخرت کو ترجیح دی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment