کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے رسول دن کے اول و آخر حصوں میں اور رات کے وقت زیادہ نماز پڑھا کرو۔
حدیث نمبر
4335
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ قَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي
مسدد، یزید بن زریع، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک غیر آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لیا اور پھر یہ بات آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آکر بیان کردی اور معافی کی التجا کی اس وقت یہ آیت نازل فرمائی گئی کہ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ الخ) تو اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! کیا یہ حکم صرف میرے لئے ہے یا سب کے لئے؟ آپ نے ارشاد فرمایا میری امت میں جو نیک لوگ ہیں ان کی نیکی ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے لہذا جو میری امت میں جو بھی غلطی کرے اس کے لئے یہ حکم ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment