کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے مسلمانو! تم نبی کے گھر میں مت جایا کرو۔
حدیث نمبر
4440
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بُنِيَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ فَأُرْسِلْتُ عَلَی الطَّعَامِ دَاعِيًا فَيَجِيئُ قَوْمٌ فَيَأْکُلُونَ وَيَخْرُجُونَ ثُمَّ يَجِيئُ قَوْمٌ فَيَأْکُلُونَ وَيَخْرُجُونَ فَدَعَوْتُ حَتَّی مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُو فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُوهُ قَالَ ارْفَعُوا طَعَامَکُمْ وَبَقِيَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَی حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَتْ وَعَلَيْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ کَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَکَ بَارَکَ اللَّهُ لَکَ فَتَقَرَّی حُجَرَ نِسَائِهِ کُلِّهِنَّ يَقُولُ لَهُنَّ کَمَا يَقُولُ لِعَائِشَةَ وَيَقُلْنَ لَهُ کَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا ثَلَاثَةٌ مِنْ رَهْطٍ فِي الْبَيْتِ يَتَحَدَّثُونَ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْحَيَائِ فَخَرَجَ مُنْطَلِقًا نَحْوَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَمَا أَدْرِي آخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا فَرَجَعَ حَتَّی إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْکُفَّةِ الْبَابِ دَاخِلَةً وَأُخْرَی خَارِجَةً أَرْخَی السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ
ابو معمر، عبد الوارث، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کیا اور پھر ولیمہ کا کھانا کھانے کے لئے مجھے لوگوں کوبلانے کے لئے بھیجا تو میں آدمیوں کو بلا کرلایا وہ کھا کر چلے گئے پھردوسروں کو لایا وہ بھی چلے گئے آخر میں نے عرض کیا کہ سب چلے گئے آپ نے کھانا کھانے کا حکم دیا مگر تین آدمی بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر آئے اور پھر حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرے کی طرف گئے اور ان کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ ﷲ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے بھی جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ ﷲ کہا اور دریافت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ﷲ تعالیٰ آپ کو مبارک فرمائے اس کے بعد آپ اپنی سب بیویوں کے پاس تشریف لے گئے- سب کو السلام علیکم کہا اور سب ہی نے حضرت عائشہ کی طرح جواب دیا اس کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو انہیں دیکھ کر بڑی شرم سی محسوس ہونے لگی اور کچھ کہہ نہ سکے اور پھر حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرے کی طرف جا کر ٹہلنے لگے پھر جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے یا کسی نے آپ کو خبر دی آپ تشریف لائے مگر ابھی چوکھٹ کے اندرایک ہی قدم رکھا تھا کہ آپ نے پردہ ڈال دیا اور اندر چلے گئے اس وقت ﷲ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل فرمائی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment