کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں۔
حدیث نمبر
4393
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَی عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَکَانَ سَيِّدَ بَنِي عَجْلَانَ فَقَالَ کَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَصْنَعُ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَأَتَی عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ فَسَأَلَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَجَائَ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَصْنَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الْقُرْآنَ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا سَمَّی اللَّهُ فِي کِتَابِهِ فَلَاعَنَهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا فَطَلَّقَهَا فَکَانَتْ سُنَّةً لِمَنْ کَانَ بَعْدَهُمَا فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا فَإِنْ جَائَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَائَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ کَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ کَذَبَ عَلَيْهَا فَجَائَتْ بِهِ عَلَی النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ فَکَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَی أُمِّهِ
اسحاق، محمد بن یوسف، اوزاعی، زہری، حضرت سہل بن سعد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کہ عویمر بن حارث عاصم بن عدی کے پاس آیا جو کہ نبی عجلان کا سردار تھا اور کہنے لگا کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ ایک شخص کسی دوسرے آدمی کو اپنی بیوی سے زنا کرتے ہوئے دیکھے اگر اسے قتل کرتا ہے تو تم اسے قصاص میں قتل کردو گے تو پھر کیا کرے یہ بات تم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرو عاصم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے مسائل دریافت کرنے کو ناپسند فرمایا عاصم نے جا کو عویمر سے بیان کردیا مگر عویمر نے کہا کہ خدا کی قسم! میں ہرگز باز نہیں آسکتا جب تک کہ اس مسئلہ کو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ نہ لوں پھر وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول ﷲ! اگر ایک شخص اپنی بیوی سے دوسرے آدمی کو زنا کرتے دیکھے تو کیا کرے اگر وہ اسے قتل کرتا ہے تو تم اسے قصاص میں قتل کردو گے آخر کیا کرے؟ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ﷲ نے تمہارے اور تمہاری بیویوں کے حق میں قرآن کی آیت نازل فرمائی ہے اور لعان کا حکم دیا ہے تو عویمر نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے بیوی سے لعان کرلیا پھر آپ سے عرض کیا یا رسول ﷲ! اگر اب میں اسے اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر ظلم کرتا ہوں اس لئے اسے طلاق دے دی اس کے بعد مرد اور عورت میں یہی طریقہ جاری ہوگیا پھر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس بات کا خیال رکھو اور دیکھو کہ اس عورت کا بچہ کس شکل کا پیدا ہوتا ہے اگر سانولے رنگ کالی آنکھ اور بھاری پنڈلیوں والا پیدا ہوا تو میں جان لوں گا کہ عویمر کا خیال بیوی کے متعلق ٹھیک تھا اور سرخ رنگ والاجیسا کہ عویمر کا رنگ ہے پیدا ہوا تو میں جانوں گا کہ عویمر نے بیوی پر جھوٹی تہمت لگائی ہے آخر جب عورت کے بچہ پیدا ہوا اور دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ کالی آنکھ والا سانولے رنگ اور بڑے سرین والا ہے لہذا بچے کو ماں کی نسبت سے منسوب کیا گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment