کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
ارشاد باری تعالیٰ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔
حدیث نمبر
4157
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ يَوْمُ عَاشُورَائَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ کَانَ رَمَضَانُ الْفَرِيضَةَ وَتُرِکَ عَاشُورَائُ فَکَانَ مَنْ شَائَ صَامَهُ وَمَنْ شَائَ لَمْ يَصُمْهُ
محمد بن مثنیٰ، یحییٰ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جاہلیت کے زمانہ میں قریش کے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے اور جب آپ صلی ﷲ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی رکھنے کا حکم دیا مگر جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو عاشورہ کا روزہ ترک کردیا گیا اور فرمایا گیا کہ جس کا دل چاہے (عاشورہ کا روزہ) رکھے اور دل نہ چاہے تو نہ رکھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment