کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہا اے ایمان والو! تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر
4151
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ کَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَکُنْ فِيهِمْ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی لِهَذِهِ الْأُمَّةِ کُتِبَ عَلَيْکُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَی بِالْأُنْثَی فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئٌ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَائٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ يَتَّبِعُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُؤَدِّي بِإِحْسَانٍ ذَلِکَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَةٌ مِمَّا کُتِبَ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَمَنْ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَتَلَ بَعْدَ قَبُولِ الدِّيَةِ
حمیدی، سفیان، عمرو ، مجاہد، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسرئیل میں صرف قصاص کا قانون تھا مگر دیت کا رواج نہیں تھا، امت محمدیہ پر ﷲ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے دیت کا حکم نازل فرمایا لہذا جو کسی کو قتل کر ڈالے اس پر قصاص واجب ہے جان کے بدلے جان، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت، اور اگر دیت ادا کرنے کا خیال ہو تو مقتول کے وارثوں کو چاہئے کہ باہمی طور پر مقررکرکے قبول کرلیں اور قاتل کو اچھی طرح دیت ادا کرنا چاہئے کہ یہ دیت کا حکم ﷲ تعالیٰ کی ایک مہربانی اور تخفیف ہے اگلے لوگوں پر قصاص کا حکم تھا اور تم کو دیت کی بھی رعایت دی گئی ہے لہذا اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے گا تو اس کے لئے درد ناک عذاب ہے (یعنی قبول دیت کے بعد قتل) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment