کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
جب کوئی شخص اپنے کو غلطی سے قتل کردے تو اس کی دیت نہیں۔
حدیث نمبر
6428
حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِکَ فَحَدَا بِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ السَّائِقُ قَالُوا عَامِرٌ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَّا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ فَجِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ فَقَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَهَا إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ وَأَيُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ
مکی بن ابراہیم، یزید بن ابی عبیدہ، سلمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف چلے، جماعت میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے عامر، اپنے کچھ شعر ہمیں سناؤ، چناچہ وہ شعر سنانے لگے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ اس پر رحم کرے لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ آپ نے ہمیں اس سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا، پھر اسی رات صبح کو عامر شہید ہوگئے، لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال ضائع ہوگئے، انہوں نے خود اپنے آپ کو قتل کیا، جب میں واپس چلا تو لوگ یہی تذکرہ کر رہے تھے کہ عامر کے اعمال ضائع ہوگئے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا کہ یانبی ﷲ میرے ماں باپ آپ پر قربان، لوگ کہتے ہیں عامر کا عمل اکارت گیا آپ نے کہا جو ایسا کہتا ہے وہ جھوٹا ہے اس کے لئے دو اجر ہیں، وہ کوشش کرنے والا تھا جہاد کرنے والا تھا، اس سے بڑھ کر کون سا قتل اجر کا باعث ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment