کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
کیا امام کسی شخص کو حکم دے سکتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں کسی پر حد لگائے
حدیث نمبر
6399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَا جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ وَکَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا فِي أَهْلِ هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ الْمِائَةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْکَ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَيَا أُنَيْسُ اغْدُ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
محمد بن یوسف، ابن عینیہ، زہری، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ زید بن خالد جہنی سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں آپ کو ﷲ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کردیں اس فریق نے جو سمجھدار تھا کہا کہ ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اور مجھے اجازت دیں کہ میں عرض کرو تو آپ نے فرمایا کہ بیان کر اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پر تھا (مالک نے کہا کہ عسیف سے مراد مزدور ہے) اس کی بیوی سے میرے بیٹے نے زنا کیا، لوگوں نے کہا میرے بیٹے کو رجم ہے میں نے سو بکریاں دے کر اور ایک لونڈی فد یہ میں دیدی، پھرمیں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کروں گا، بکریاں اور لونڈی تو تمہیں واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سودرے اور ایک سال جلاوطنی ہے اور تم اے انیس اس کی بیوی کے پاس صبح جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسکو رجم کرو اس نے اقرار کیا تو اسے سنگسار کردیا گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment