کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
اذان ونماز، روزہ، فرائض اور احکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6751
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفِيقًا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدْ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ قَالَ ارْجِعُوا إِلَی أَهْلِيکُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَذَکَرَ أَشْيَائَ أَحْفَظُهَا أَوْ لَا أَحْفَظُهَا وَصَلُّوا کَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْيَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، ایوب قلابہ، مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم لوگ جوان اور ہم عمر تھے، ہم آپ کے پاس بیس رات تک رہے، اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بہت مہربان تھے، جب آپ کو خیال ہوا کہ ہم اپنے گھر والوں کی خواہش کر رہے ہیں یا یہ کہ ہم پر شاق گزر رہا ہے تو آپ نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم نے اپنے پیچھے کن لوگوں کو چھوڑا ہے، چناچہ ہم لوگوں نے بتایا، تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اپنے گھر والوں کو حکم دو، اور ان میں رہو، اور انہیں علم سکھاؤ اور اچھی باتوں کا حکم دو، اور چند باتیں آپ نے فرمائیں جو مجھے یاد ہیں، یا یاد نہیں رہیں، (فرمایا) تم نماز پڑھو جس طرح مجھے تم نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان کہے اور تم میں سے بڑا آدمی امامت کرائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment