کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
لفظ لو (اگر) کے استعمال کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6744
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا عَطَائٌ قَالَ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَائِ فَخَرَجَ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَقَدَ النِّسَائُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي أَوْ عَلَی النَّاسِ وَقَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالصَّلَاةِ هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّلَاةَ فَجَائَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَقَدَ النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَائَ عَنْ شِقِّهِ يَقُولُ إِنَّهُ لَلْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي وَقَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا عَطَائٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا عَمْرٌو فَقَالَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ يَمْسَحُ الْمَائَ عَنْ شِقِّهِ وَقَالَ عَمْرٌو لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ إِنَّهُ لَلْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
علی، سفیان ، عمر، عطاء ،سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی، تو حضرت عمر نکلے اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز کا وقت ہو گیا عورتیں اور بچے سو گئے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر آئے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور فرما رہے تھے کہ اگر میں اپنی امت پر یا فرمایا کہ لوگوں پر شاق نہ جانتا (اور سفیان نے امتی کو نقل کیا) تو میں ان کو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا، ابن جریج نے بواسطہ، عطاء، ابن عباس نقل کیا ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز میں دیر کی تو حضرت عمر آئے اور عرض کیا یا رسول ﷲ عورتیں اور بچے سو گئے، چناچہ آپ باہر تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کی کنپٹیوں سے پانی ٹپک رہا تھا، اور فرما رہے تھے کہ یہی وقت نماز کا ہے اگر میں اپنی امت کے لئے دشوار نہ جانتا (تواسی وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا) اور عمرو بیان کرتے ہیں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ابن جریج نے کہا کہ آپ اپنی کنپٹیوں سے پانی پونچھ رہے تھے، اور عمر نے کہا کہ اگر میں اپنی امت کے لئے شاق نہ جانتا، اور ابراہیم بن منذر نے بواسطہ معن محمد بن مسلم، عمرو، عطاء، حضرت ابن عباس، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment