کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے پاتے ہیں۔
حدیث نمبر
6868
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي زَکَرِيَّائَ الْغَسَّانِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ مَا تُشِيرُونَ عَلَيَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوئٍ قَطُّ وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ لَمَّا أُخْبِرَتْ عَائِشَةُ بِالْأَمْرِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْطَلِقَ إِلَی أَهْلِي فَأَذِنَ لَهَا وَأَرْسَلَ مَعَهَا الْغُلَامَ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سُبْحَانَکَ مَا يَکُونُ لَنَا أَنْ نَتَکَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَکَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
محمد بن حرب، یحییٰ بن ابی زکریا، غسانی، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کوخطبہ دیا تو ﷲ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا کہ تم مجھ کو ان لوگوں کے متعلق کیا مشورہ دیتے ہو جو میری بیوی کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی، اور عروہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کو اس معاملہ (بہتان) کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں ، آپ نے ان کو اجازت دیدی، اور ان کے ساتھ ایک غلام بھیج دیا، انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ(سُبْحَانَکَ مَا يَکُونُ لَنَا أَنْ نَتَکَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَکَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment