کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
آرزو کرنے کا بیان
باب
دشمنوں کے مقابلہ کی آرزو کے مکروہ ہونےکا بیان۔
حدیث نمبر
6742
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَکَانَ کَاتِبًا لَهُ قَالَ کَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَی فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ
عبد ﷲ بن محمد، معاویہ بن عمرو، ابواسحاق، موسی بن عقبہ، سالم ابوالنضر (عمر بن عبید ﷲ کے آزاد کردہ غلام اور ان کے کاتب تھے) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ان کے پاس حضرت عبد ﷲ بن ابی اوفی نے خط لکھا تھا میں نے اس کو پڑھ کر سنایا تو اس میں لکھا تھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمنوں کے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور ﷲ سے عافیت کی درخواست کرو۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment