Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2238,TotalNo:6889


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
اللہ تعالی کے ناموں کے ذریعے سوال کرنے اور اس کے ذریعے مانگنے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر
6889
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلْيَقُلْ بِاسْمِکَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِکَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَکَ الصَّالِحِينَ تَابَعَهُ يَحْيَی وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ زُهَيْرٌ وَأَبُو ضَمْرَةَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالعزیز، بن عبدﷲ ، مالک، سعیدبن ابی سعیدمقبری، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو اس کو چاہیے کہ اپنے کپڑے کو کونے سے اس کو تین بار جھاڑ لے- اور یہ کہے، ، بِاسْمِکَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِکَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَکَ الصَّالِحِينَ - یحییٰ اور بشر بن مفضل نے اس کی متابعت میں عبیدﷲ سے انہوں نے سعید سے انہوں حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے اور زہیر اور ابوضمرہ اور اسمعیل بن زکریا نے اس کو اس کی زیادتی کے ساتھ روایت کیا ہے- کہ عبیدﷲ ، سعید، سے وہ اپنے والد سے وہ ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور ابن عجلان اس کو سعید سے، وہ ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment