کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
حدیث نمبر
6847
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ أَلَا تُصَلُّونَ فَقَالَ عَلِيٌّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِکَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعَهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ يُقَالُ مَا أَتَاکَ لَيْلًا فَهُوَ طَارِقٌ وَيُقَالُ الطَّارِقُ النَّجْمُ وَ الثَّاقِبُ الْمُضِيئُ يُقَالُ أَثْقِبْ نَارَکَ لِلْمُوقِدِ
ابوالیمان، شعیب، زہری، ح، محمد بن سلام، عتاب بن بشیر، اسحاق، زہری، علی بن حسین، حسین بن علی، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے تو ان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھتے ہو؟ حضرت علی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہماری جانیں ﷲ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ اٹھانا چاہتا ہے تو ہمیں اٹھا لیتا ہے- جب حضرت علی نے یہ کہا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پیٹھ پھیر کر چلے اور کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ کو سنا کہ اپنی ران پر مارتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے کہ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے- (امام بخاری نے کہا) جو شخص رات کو آئے اس کو طارق کہتے ہیں اور بعض کا قول ہے کہ طارق سے مراد ستارہ ہے، اور ثاقب کے معنی روشن چناچہ آگ سلگانے والے کو کہا جاتا ہے کہ،﴿أَثْقِبْ نَارَکَ لِلْمُوقِدِ﴾، (اپنی آگ روشن کر)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment