کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
بادشاہ کے سامنے اس کی تعریف کرنا اوراس کے پیچھے اس کے خلاف کہنا مکروہ ہے
حدیث نمبر
6689
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُنَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّا نَدْخُلُ عَلَی سُلْطَانِنَا فَنَقُولُ لَهُمْ خِلَافَ مَا نَتَکَلَّمُ إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمْ قَالَ کُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا
ابونعیم، عاصم بن محمد بن زید بن عبد ﷲ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کچھ لوگوں نے ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہ کہ ہم اپنے بادشاہ کے پاس جاتے ہیں تو ہم ان سے گفتگو کرتے ہیں جواس کے خلاف ہوتی ہے جب کہ ہم ان کے پاس سے جدا ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اس کو نفاق سمجھتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment