کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
کاتب کے لئے مستحب ہے کہ وہ امانتدار اور عاقل ہو۔
حدیث نمبر
6700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَکْرٍ لِمَقْتَلِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَی أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ کُلِّهَا فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ کَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ کَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِکَ الَّذِي رَأَی عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَإِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُکَ قَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ لَوْ کَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا کَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ کَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ يَحُثُّ مُرَاجَعَتِي حَتَّی شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِکَ الَّذِي رَأَيَا فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنْ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ فَوَجَدْتُ فِي آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ إِلَی آخِرِهَا مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا وَکَانَتْ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَکْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ اللِّخَافُ يَعْنِي الْخَزَفَ
محمد بن عبید ﷲ ، ابوثابت، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، عبید بن سباق، زید بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مقتل یمامہ میں میرے پاس ایک آدمی بھیج کر بلوایا، اس وقت حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے، حضرت ابوبکر نے کہا کہ میرے پاس عمر آئے اور کہتے ہیں کہ یوم یمامہ میں بہت سے قراء شہید ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ تمام جگہوں میں کثیر تعداد میں قرا کے قتل سے قرآن کا کثیر حصہ ضائع نہ ہوجائے- اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں، میں نے کہا کہ میں کیوں ایسا کام کروں جس کو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم یہی بہتر ہے اور عمر مجھ سے باربار کہنے لگے یہاں تک کہ ﷲ نے میرا سینہ اس کے لئے کھول دیا جس کے لئے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا، اور میں نے بھی اس کے متعلق وہی خیال کیا جو عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے خیال کیا، زید کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے کہا کہ تو عقلمند جوان ہم تم پر کسی قسم کا شبہ نہیں کرتے اور تم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وحی لکھا کرتے تھے، اس لئے قرآن کو تلاش کرو اور اس کو جمع کرو، زید کا بیان ہے کہ خدا کی قسم اگرمجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھانے کی تکلیف دی جاتی تو یہ اس جمع قرآن کی تکلیف سے زیادہ وزنی نہ ہوتی، جو مجھے دی گئی تھی، میں نے کہا کہ تم دونوں کیونکر ایسا کام کروگے، جس کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا، حضرت ابوبکر نے کہا کہ خدا کی قسم یہی بہتر ہے پھر برابر مجھے اس پر آمادہ کرتے رہے، یہاں تک کہ ﷲ نے میرا سینہ اس چیز کے لئے کھول دیا جس کے لئے حضرت ابوبکر و عمر کا سینہ کھول دیا تھا، اور میں نے بھی اس میں یہی مناسب خیال کیا چناچہ میں قرآن تلاش کرنے لگا، اور اس کو کھجور کے پتوں، کھالوں، اور ٹھیکریوں اور لوگوں کے سینوں میں جمع کرنے لگا، میں نے سورۃ توبہ کی آخری آیت ﴿لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ ﴾ حضرت خزیمہ یا ابوخزیمہ کے پاس پائی، میں نے اس کو اس کے آخرمیں شامل کردیا، اور یہ صحیفے حضرت ابوبکر کے پاس ان کی زندگی بھر رہے یہاں تک کہ ﷲ نے ان کو اٹھا لیا، تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کی زندگی بھر رہے، یہاں تک کہ جب ﷲ نے ان کو اٹھا لیا تو حضرت حفصہ بنت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس رہے، محمد بن عبید ﷲ نے کہا کہ لخاف سے مراد ٹھیکریاں ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment