کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ وہ لوگ آدمیوں سے لپٹ کر نہیں سوال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر
4190
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَرِيکُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ أَنَّ عَطَائَ بْنَ يَسَارٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْکِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ وَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ يَعْنِي قَوْلَهُ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا
سعید بن ابی مریم، محمد بن جعفر، شریک بن ابی نمر، عطاء و عبدالرحمن دونوں، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو چھوہارے اور کھانے کا لالچ در بدر لئے پھرتا ہے بلکہ مسکین تو وہ ہے جو کسی سے سوال نہ کرے اگر تم مسکین کا مطلب جاننا چاہتے ہو تو اس آیت یعنی ﴿ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾، (کہ وہ لوگوں سے لپٹ کر اور کوشش سے نہیں مانگتے) کو پڑھو اور سمجھو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment