کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا۔
حدیث نمبر
4222
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْيَ خَالَتُهُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَی شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوئَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَی يَفْتِلُهَا فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّی جَائَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ
قتیبہ بن سعید، مالک، مخرمہ بن سلیمان، کریب (حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام) ، حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی ﷲ عنہا زوجہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ٹھہر گیا میں رات کو آپ کے بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کے طول میں لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات آدھی ہو گئی یا تھوڑا سا اس سے پہلے یا تھوڑا سا اس کے بعد تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو بیٹھ کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا پھر سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی- (انہیں میں یہ آیت بھی شامل ہے) پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے اس سے پانی لے کر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بہت اچھی طرح وضو کیا پھر آپ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کھڑا ہوا اور جو کچھ آپ نے کیا تھا اسی طرح میں نے بھی کیا پھر جا کر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہوگیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا پھر میرے کان کو موڑ کر مجھے سیدھی طرف کردیا پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی (یعنی بارہ رکعات نماز ادا کی) پھر وتر پڑھے پھر ذرا آرام فرمایا پھر موذن نے اذان کہی تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اٹھ کر فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر مسجد میں تشریف لا کر صبح کی نماز جماعت سے ادا فرمائی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment