Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1810,TotalNo:4346


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اس پاکیزہ درخت کی طرح جس کی جڑیں مضبوط اور جمی ہوئی ہوں۔
حدیث نمبر
4346
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ أَوْ کَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا وَلَا وَلَا وَلَا تُؤْتِي أُکْلَهَا کُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَکَلَّمَانِ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ يَا أَبَتَاهُ وَاللَّهِ لَقَدْ کَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَکَلَّمَ قَالَ لَمْ أَرَکُمْ تَکَلَّمُونَ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَکُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کَذَا وَکَذَا
عبید بن اسماعیل، ابی اسامہ، عبید ﷲ، نافع، حضرت ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا وہ کون سا درخت ہے جس کے پتے نہ گرتے ہوں اور اس میں پھل بھی ہمیشہ آتا ہو؟ مسلمان کی مثال اس درخت کی طرح ہے کہ یہ بھی نہیں اور یہ بھی نہیں اور یہ بھی نہیں ہوتا ہے یعنی ہمیشہ پھلتا رہتا ہے ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے چاہا کہ کہدوں وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سب خاموش ہیں کوئی نہیں بولتا تو میں کس طرح بولوں آخر حضورصلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے پھر جب مجلس ختم ہوئی اور سب اٹھے تو میں نے اپنے والد حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میرے دل میں آیا تھا کہ کہدوں وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں آپ سب کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم نے کہہ دیا ہوتا۔ وﷲ مجھے زیادہ سے زیادہ مال ملنے پر بھی اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی تمہارا جواب سن کر ہوتی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment