کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تم کو سفر میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔
حدیث نمبر
4257
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلَا تَرَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَی فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي مِنْ التَّحَرُّکِ إِلَّا مَکَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَخِذِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَيْرِ مَائٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ يَا آلَ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي کُنْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا الْعِقْدُ تَحْتَهُ
اسمٰعیل، امام مالک، عبدا الرحمٰن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ زوجہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر کو گئی جب ہم مقام بیداء میں پہنچے تو میرا ہار کہیں گم ہوگیا تو رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اسی جگہ ٹھر گئے اور لوگ ہار ڈھونڈنے لگے اور یہ جگہ ایسی تھی کہ پانی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور ساتھ بھی پانی موجود نہ تھا کچھ لوگ حضرت ابوبکرکے پاس آئے اور کہاحضرت عائشہ کی وجہ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے سب لوگوں کو رکنا پڑا ہے اور نہ وہ پانی پر ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے اس وقت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر رکھے ہوئے سو رہے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا ! تم نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اور تمام لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا ہے کہ جہاں پانی بھی دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس پانی موجود ہے اور انہوں نے مجھے سخت سست کہا ہے، میں اس لئے خاموش ہو رہی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر رکھے ہوئے سو رہے تھے حالانکہ انہوں نے میری کوکھ میں انگلی بھی ماری تھی- آخرصبح کو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے مگر پانی موجود نہیں تھا اس وقت ﷲ تعالیٰ نے یہ آیت (یعنی آیت تیمم) نازل فرمائی، حضرت اسید بن حضیر نے کہا کہ اس آیت کے نزول کا سبب حضرت ابوبکر کی اولاد کی بزرگی اور کرامت ہے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میرا اونٹ کھڑا ہوا تو ہار اس کے نیچے سے برآمد ہوا اور مجھے مل گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment