کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ مگر وہ (شیطان) جو باتوں کو چراتا ہے پاس اس کے پیچھے آگ کے شعلے لگتے ہیں۔
حدیث نمبر
4349
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَائِ ضَرَبَتْ الْمَلَائِکَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ کَالسِّلْسِلَةِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِيٌّ وَقَالَ غَيْرُهُ صَفْوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا لِلَّذِي قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِيرُ فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنَی نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلَی صَاحِبِهِ فَيُحْرِقَهُ وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِکْهُ حَتَّی يَرْمِيَ بِهَا إِلَی الَّذِي يَلِيهِ إِلَی الَّذِي هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ حَتَّی يُلْقُوهَا إِلَی الْأَرْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی الْأَرْضِ فَتُلْقَی عَلَی فَمْ السَّاحِرِ فَيَکْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ کَذْبَةٍ فَيُصَدَّقُ فَيَقُولُونَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ کَذَا وَکَذَا يَکُونُ کَذَا وَکَذَا فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا لِلْکَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنْ السَّمَائِ
علی بن عبد ﷲ، سفیان، عمرو، عکرمہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب ﷲ تعالیٰ آسمان پر فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ عاجزی کے ساتھ اپنے پر مارنے لگتے ہیں اور غور سے سنتے ہیں اور زنجیر کی سی جھنکار نکلتی ہے جب فرشتے حکم الٰہی کے خوف سے کچھ بے غم ہوتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ﷲ تعالیٰ نے کیا حکم دیا ہے؟ تو دوسرے کہتے ہیں جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے اور ﷲ تعالیٰ بڑا بلند برتر ہے ۔علی کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ فرشتوں کی باتیں شیطان چوری سے اڑاتے ہیں اور یہ شیطان اس طرح تلے اوپر رہتے ہیں اور انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے بتایا پھر کبھی فرشتے خبر ہوتے ہی آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں اور وہ شعلہ باتیں سننے والوں کو قبل اس سے کہ وہ اپنے ساتھ والے کو بتلائے جلا ڈالتا ہے اور کبھی اس شعلہ کے اس تک پہنچنے سے پہلے وہ اپنے ساتھی کو بتا دیتا ہے اور اس طرح یہ باتیں زمین تک آجاتی ہیں پھر ان باتوں کو نجومی کے منہ پر ڈالا جاتا ہے اور وہ اس ایک میں سو جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے کوئی کوئی بات اس نجومی یعنی جادوگر کی سچ نکل آتی ہے تو لوگ کہنے لگتے ہیں کہ دیکھو! اس نجومی نے ہم سے یہ کہا تھا لہذا اس کی بات سچ نکلی حالانکہ یہ وہی بات ہے جو آسمان سے اڑائی گئی تھی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment