کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ دیکھو یہ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں۔
حدیث نمبر
4331
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ و قَالَ غَيْرُهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْتَغْشُونَ يُغَطُّونَ رُئُوسَهُمْ سِيئَ بِهِمْ سَائَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ وَضَاقَ بِهِمْ بِأَضْيَافِهِ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّيْلِ بِسَوَادٍ وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِلَيْهِ أُنِيبُ أَرْجِعُ
حمیدی، سفیان، عمرو سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ یہ آیت (اَلَا إِنَّهُمْ یَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ ) اسی طرح پڑھی عمرو بن دینار کے علاوہ اور دوسرے لوگوں کا بیان ہے کہ ابن عباس یستغشون کے معنی سر ڈھانپ لینے کے فرماتے ہیں " سِيئَ بِهِمْ " اپنی قوم سے بد گمان ہوا اور "ضَاقَ بِهِمْ" یعنی اپنے مہمان کو دیکھ کر رنجیدہ ہوا "بِقِطْعٍ مِنْ اللَّيْلِ'' کے معنی رات کی سیاہی میں مجاہد کا بیان ہے کہ " أُنِيبُ " کے معنی میں رجوع کرتا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment