کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ اللہ تعالیٰ کا تخت (حکومت) پانی پر ہے۔
حدیث نمبر
4332
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ يَدُ اللَّهِ مَلْأَی لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّائُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ اعْتَرَاکَ افْتَعَلَکَ مِنْ عَرَوْتُهُ أَيْ أَصَبْتُهُ وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا أَيْ فِي مِلْکِهِ وَسُلْطَانِهِ عَنِيدٌ وَعَنُودٌ وَعَانِدٌ وَاحِدٌ هُوَ تَأْکِيدُ التَّجَبُّرِ اسْتَعْمَرَکُمْ جَعَلَکُمْ عُمَّارًا أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ عُمْرَی جَعَلْتُهَا لَهُ نَکِرَهُمْ وَأَنْکَرَهُمْ وَاسْتَنْکَرَهُمْ وَاحِدٌ حَمِيدٌ مَجِيدٌ کَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ سِجِّيلٌ الشَّدِيدُ الْکَبِيرُ سِجِّيلٌ وَسِجِّينٌ وَاللَّامُ وَالنُّونُ أُخْتَانِ وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلٍ وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ ضَاحِيَةً ضَرْبًا تَوَاصَی بِهِ الْأَبْطَالُ سِجِّينَا وَإِلَی مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا أَيْ إِلَی أَهْلِ مَدْيَنَ لِأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ وَمِثْلُهُ وَاسْأَلْ الْقَرْيَةَ وَاسْأَلْ الْعِيرَ يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ وَأَصْحَابَ الْعِيرِ وَرَائَکُمْ ظِهْرِيًّا يَقُولُ لَمْ تَلْتَفِتُوا إِلَيْهِ وَيُقَالُ إِذَا لَمْ يَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ بِحَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ظِهْرِيًّا وَالظِّهْرِيُّ هَا هُنَا أَنْ تَأْخُذَ مَعَکَ دَابَّةً أَوْ وِعَائً تَسْتَظْهِرُ بِهِ أَرَاذِلُنَا سُقَّاطُنَا إِجْرَامِي هُوَ مَصْدَرٌ مِنْ أَجْرَمْتُ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ جَرَمْتُ الْفُلْکُ وَالْفَلَکُ وَاحِدٌ وَهْيَ السَّفِينَةُ وَالسُّفُنُ مُجْرَاهَا مَدْفَعُهَا وَهُوَ مَصْدَرُ أَجْرَيْتُ وَأَرْسَيْتُ حَبَسْتُ وَيُقْرَأُ مَرْسَاهَا مِنْ رَسَتْ هِيَ وَمَجْرَاهَا مِنْ جَرَتْ هِيَ وَمُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا مِنْ فُعِلَ بِهَا رَاسِيَاتٌ ثَابِتَاتٌ
ابو الیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندے! تو مجھے دے تو میں تجھے دوں گا کیونکہ ﷲ تعالیٰ کا خزانہ بھرا ہوا ہے اگر رات دن خرچ کرتا رہے تب بھی خالی نہیں ہوتا کیا تم یہ نہیں دیکھتے ہو کہ جب سے زمین اور آسمان کو بنایا ہے کس قدر خرچ کردیا ہے مگر پھر بھی اس کی کوئی نعمت کم نہیں ہوئی اور ﷲ تعالیٰ کا عرش (تخت) پانی پر ہے اس کے ہاتھ میں رزق کی تراز و ہے جس طرح چاہتا ہے جھکا دیتا ہے اور جس کے لئے وہ مناسب خیال کرتا ہے اٹھا دیتا ہے ''اعداک'' کا مطلب ہے تجھ پر مار پڑ گئی۔ ''عدوتہ'' کے معنی میں نے اس کو پایا۔ ''یعروہ'' مضارع کا صیغہ ہے۔ ''بناصیتھا'' یعنی اس کی حکومت اور قبضہ میں سے، غنید عنود عائد سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی سخت تکبر و سرکشی۔ ''والا استعمر'' بسایا تم کو عرب کہتے ہیں یعنی یہ گھر میں نے اس کو تمام زندگی کیلئے دے ڈالا۔ ''نکرھم و انکرھم اور استنکرھم'' سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ہر ملک والا پردیسی۔ ''حمید مجید'' یہ معیل کے وزن پر ہے ماجد سے بمعنی کرم کرنے والا محمود کے معنی سراہا گیا ''سجیل اور سجین'' کے ایک ہی معنی ہیں- سجین میں لام اور نون دونوں آتے ہیں تمیم بن مقبل نے کہابعض پیدل دن دہاڑے خود پر سجین مارا کرتے ہیں پہلوان جن کی وصیت کرتے ہیں ایسی لگا ناپ انہیں، ''والی مدین'' کے معنی ہیں ابی مدین کی طرف اور اسی طرح یہ کہا گیا ہے کہ (وَاسْأَلْ الْقَرْيَةَ ) یعنی بستی سے پوچھ اور (اسئل العیر) کے معنی ہیں قافلہ والوں سے پوچھ۔ (وَرَائَکُمْ ظِهْرِيًّا) یعنی پس پشت ڈال دیا اس کی طرف توجہ نہیں کی جب کسی سے کمی کا مقصد پورا نہ ہو تو عرب والے کہتے ہیں کہ ظھرت بحاجتی اور جعلنی ظھریا اس جگہ ظھری سے وہ جانور مراد ہے جو کام کے لئے ساتھ رکھتے ہیں "اراذلنا" ہمارے کام کے لئے۔ ''اجرامی'' میرا گناہ بعض کہتے ہیں کہ یہ ''اجر مت''کا مصدر ہے یا جرمت کا جو کہ ثلاثی مجرد ہے۔ ''الفلک'' واحد اور جمع دونوں میں مستعمل ہے یعنی کشتی اور کشتیاں۔ ''مجریھا'' کشتی کا چلنا یہ مصدر ہے اجریت کا اسی طرح مرسھا مصدر ہے ارسیت کا یعنی میں نے کشتی کو لنگر لگا دیا بعض نے مرسھا بفتح المیم پڑھا ہے جو رست سے بنا اسی طرح مجریھا بھی جرت سے ہے بعض نے مجریھا اور مرسھا پڑھا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ﷲ تعالیٰ اس کا چلانے والا تھامنے والا ہے ''الرسیات'' کے معنی ہیں لنگر انداز اور ''ثابتات ''کے معنی ہیں ٹھہری ہوئی جمی ہوئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment