کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ انسان اکثر چیزوں میں جھگڑا کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر
4372
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ قَالَ أَلَا تُصَلِّيَانِ رَجْمًا بِالْغَيْبِ لَمْ يَسْتَبِنْ فُرُطًا يُقَالُ نَدَمًا سُرَادِقُهَا مِثْلُ السُّرَادِقِ وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ يُحَاوِرُهُ مِنْ الْمُحَاوَرَةِ لَکِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي أَيْ لَکِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي ثُمَّ حَذَفَ الْأَلِفَ وَأَدْغَمَ إِحْدَی النُّونَيْنِ فِي الْأُخْرَی وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا يَقُولُ بَيْنَهُمَا زَلَقًا لَا يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ هُنَالِکَ الْوِلَايَةُ مَصْدَرُ الْوَلِيِّ عُقُبًا عَاقِبَةً وَعُقْبَی وَعُقْبَةً وَاحِدٌ وَهِيَ الْآخِرَةُ قِبَلًا وَقُبُلًا وَقَبَلًا اسْتِئْنَافًا لِيُدْحِضُوا لِيُزِيلُوا الدَّحْضُ الزَّلَقُ
علی بن عبد ﷲ، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شھاب، علی بن حسین، حسین بن علی، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت میرے اور حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم نے تہجد کی نماز نہیں پڑھی میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! ہم کو ﷲ نے اٹھایا ہی نہیں یہ بات سن کو آپ واپس ہو گئے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے (وَکَانَ الاِنسَانُ اَکثَرَشَیء جَدَلاَ) ''رجما بالغیب'' کے معنی ہیں بن دیکھے سنی سنائی بات کرنا ''فرطا'' حد سے بڑھا ہوا ''ندما'' افسوس ''سرادقھا'' پردے اور قناتیں گویا آگ پردوں اور قناتوں کی طرح لپٹی ہوگی ''یحاورہ'' محاورہ سے مشتق ہے گفتگو کرنا تکرار کرنا '' لَکِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي'' مگر میرا رب وہ ﷲ ہے اس کی اصل یہ ہے کہ '' لَکِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي '' الف کو گرا کر نون کو نون میں ادغام کردیا گیا ''زلقا'' پھسلنی جس سے قدم پھسلے ''هُنَالِکَ الْوِلَايَةُ'' دلایہ ولی کا مصدر ہے بمعنی وارث ''عقبا، عاقبہ، عقبی، عقبہ'' سب کے معنی آخرت کے ہیں ''لیدحضوا'' کے معنی تاکہ پھسلا دیں یہ دحض سے نکلا ہے یعنی حق سے ہٹا دیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment