کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا۔
حدیث نمبر
4373
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِکَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَی صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ مُوسَی صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مُوسَی قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْکَ قَالَ مُوسَی يَا رَبِّ فَکَيْفَ لِي بِهِ قَالَ تَأْخُذُ مَعَکَ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِکْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِکْتَلٍ ثُمَّ انْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ حَتَّی إِذَا أَتَيَا الصَّخْرَةَ وَضَعَا رُئُوسَهُمَا فَنَامَا وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِکْتَلِ فَخَرَجَ مِنْهُ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا وَأَمْسَکَ اللَّهُ عَنْ الْحُوتِ جِرْيَةَ الْمَائِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلَ الطَّاقِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ نَسِيَ صَاحِبُهُ أَنْ يُخْبِرَهُ بِالْحُوتِ فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتَهُمَا حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ مُوسَی لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَائَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا قَالَ وَلَمْ يَجِدْ مُوسَی النَّصَبَ حَتَّی جَاوَزَا الْمَکَانَ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْکُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا قَالَ فَکَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَلِمُوسَی وَلِفَتَاهُ عَجَبًا فَقَالَ مُوسَی ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَی آثَارِهِمَا قَصَصًا قَالَ رَجَعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّی انْتَهَيَا إِلَی الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّی ثَوْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَی فَقَالَ الْخَضِرُ وَأَنَّی بِأَرْضِکَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَی قَالَ مُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ أَتَيْتُکَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا قَالَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا يَا مُوسَی إِنِّي عَلَی عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لَا تَعْلَمُهُ أَنْتَ وَأَنْتَ عَلَی عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَکَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ فَقَالَ مُوسَی سَتَجِدُنِي إِنْ شَائَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَکَ أَمْرًا فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ فَإِنْ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أُحْدِثَ لَکَ مِنْهُ ذِکْرًا فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَی سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ فَکَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمَّا رَکِبَا فِي السَّفِينَةِ لَمْ يَفْجَأْ إِلَّا وَالْخَضِرُ قَدْ قَلَعَ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ بِالْقَدُومِ فَقَالَ لَهُ مُوسَی قَوْمٌ قَدْ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَی سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ الْأُولَی مِنْ مُوسَی نِسْيَانًا قَالَ وَجَائَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَی حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ مَا عِلْمِي وَعِلْمُکَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلُ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ السَّفِينَةِ فَبَيْنَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَی السَّاحِلِ إِذْ أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلَامًا يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ رَأْسَهُ بِيَدِهِ فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ فَقَتَلَهُ فَقَالَ لَهُ مُوسَی أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاکِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُکْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَکَ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا قَالَ وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَی قَالَ إِنْ سَأَلْتُکَ عَنْ شَيْئٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا فَانْطَلَقَا حَتَّی إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ قَالَ مَائِلٌ فَقَامَ الْخَضِرُ فَأَقَامَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ مُوسَی قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُضَيِّفُونَا لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِکَ إِلَی قَوْلِهِ ذَلِکَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَی کَانَ صَبَرَ حَتَّی يَقُصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ وَکَانَ أَمَامَهُمْ مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَکَانَ يَقْرَأُ وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا وَکَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ
حمیدی، سفیان، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر، سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا نوف بکالی کہتا ہے کہ خضر سے ملاقات کرنے والے موسیٰ بنی اسرائیل والے موسیٰ نہیں تھے ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ ﷲ کا دشمن جھوٹ کہتا ہے مجھ سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے خود آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ موسیٰ جو بنی اسرئیل کے نبی تھے ان سے پوچھا گیا کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بڑا عالم کون ہے؟ تو حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ میں ہوں ﷲ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور اس نے عتاب فرمایا ان کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ ﷲ خوب جانتا ہے پھر ﷲ نے ان کی طرف وحی بھیجی اور فرمایا کہ ہمارا ایک بندہ دو سمندروں کے سنگم پر ہے تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے چناچہ موسیٰ نے عرض کیا کہ اے مولا! میں اس کے پاس کس طرح پہنچوں؟ فرمایا ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو جہاں یہ مچھلی گم ہوجائے سمجھ لو کہ وہ بندہ وہیں ہے حضرت موسیٰ نے مچھلی تھیلی میں رکھی اور چل دیئے آپ کے ساتھ ایک جوان یوشع بن نون بھی تھا جب دریا کے کناے پہنچے تو ایک پتھر سے سر لگا کر سو گئے مچھلی زنبیل میں پھڑکی اور تڑپ کر دریا میں چلی گئی حضرت موسی سو کر اٹھے تو ساتھی نے بھی آپ کو نہیں بتایا اور آگے بڑھ گئے مچھلی جو دریا میں گئی تھی ﷲ تعالیٰ نے اس جگہ سے دریا کے پانی کو روک دیا اور ایک نالی سی بنا دی غرض حضرت موسیٰ اپنے ساتھی کے ساتھ ایک دن رات چلتے رہے دوسرے دن حضرت موسیٰ نے یوشع سے کہا کہ مجھے تکان معلوم ہوتی ہے ناشتہ تو لاؤ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تکان اسی جگہ سے معلوم ہونے لگی تھی جہاں مچھلی گم ہوئی تھی حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کہ جو حد ﷲ نے بتائی ہے وہاں تک تکان نہیں ہوئی اس وقت یوشع کو یاد آیا اور اس نے کہا کہ اس پتھر کے پاس مچھلی گم ہو گئی مگر مجھے شیطان نے بھلا دیا کہ آپ سے ذکر کرتا وہ تو عجیب طرح سے دریا میں گئی اور اپنا راستہ بنا لیا اور وہ نشان بنایا حضرت موسیٰ اور یوشع کو بہت تعجب خیز معلوم ہوا چناچہ دونوں اسی جگہ نشان قدم کو دیکھتے ہوئے واپس ہوئے اور جب موسیٰ پتھر کے پاس پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ ایک شخص کپڑے میں لپٹے ہوئے کھڑے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سلام کیا خضر نے کہا اس سرزمین میں سلام کہاں سے آیا؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا میں موسیٰ ہوں، انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے نبی موسیٰ ہو؟ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا ہاں! میں موسیٰ بنی اسرائیل کا نبی ہوں اور تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے اپنا علم سکھا دیں حضرت خضر نے کہا تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے حضرت موسیٰ نے فرمایا خدا نے چاہا تو آپ مجھ کو صابر پائیں گے میں کسی بات میں آپ کے خلاف نہیں کروں گا حضرت خضر نے فرمایا اگر تم میرے ہمراہ رہنا چاہتے ہو تو دیکھو میں کوئی بھی کام کروں گا مگر آپ اس وقت تک پوچھئے گا نہیں جب تک میں خود نہ بتاؤں اس کے بعد حضرت موسیٰ و خضر دریا کے کنارے کنارے روانہ ہوئے ایک کشتی نظر آئی حضرت خضر نے ملاحوں سے کہا کہ ہم کو کشتی میں بٹھا لو وہ حضرت خضر کو پہچان گیا اور کشتی میں بٹھا لیا اور کوئی معاوضہ نہیں لیا جب حضرت موسیٰ و خضر کشتی میں بیٹھ گئے تو حضرت خضر نے کلہاڑی سے کشتی کے ایک تختہ کو کاٹ ڈالا حضرت موسیٰ نے اس کیفیت کو دیکھ کر کہا کہ ان بے چاروں نے تو ہم کو مفت میں بٹھایا ہے اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ ڈالا ہے سب لوگ ڈوب جائیں گے یہ تو بہت براکام ہوا ہے حضرت خضر نے فرمایا دیکھو! میں نے تم سے کہا تھا کہ میں جو بھی کروں صبرکرنا مگر تم صبر نہیں کر سکے حضرت موسیٰ نے فرمایا اچھا اس دفعہ معافی دے دو آئندہ ایسا نہیں ہوگا میں بھول گیا تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ بات تھی جو موسیٰ علیہ السلام سے بھول کہ ہوئی اس کے بعد ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی اور اپنی چونچ سے پانی پیا حضرت خضر نے کہا کہ اے موسیٰ! ہمارا اور تمہارا علم ﷲ تعالیٰ کے سامنے اتنا ہی ہے جتنا اس پرندے نے چونچ میں پانی لیا ہے اس کے بعد کشتی سے نیچے اتر گئے اور اس دریاد کے کنارے کنارے چلنے لگے راستہ میں حضرت خضرنے ایک بچہ کو جو کہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا پکڑ کر اس کا سر جسم سے علیحدہ کردیا حضرت موسیٰ نے کہا کہ آپ نے بلاوجہ ایک بچہ کو اس طرح مار ڈالا یہ تو کوئی اچھا کام نہیں کیا حضرت خضر نے کہا میں تو پہلے ہی سے کہتا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے اس حدیث کے ایک راوی سفیان کہتے ہیں کہ یہ کام پہلے کام سے بھی زیادہ سخت تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا اب میں کوئی سوال نہیں کروں گا اور اگر کروں تو مجھے اپنے ساتھ مت رکھنا بے شک آپ نے کافی صبر کیا ہے اس کے بعد دونوں حضرات ایک گاؤں میں چلتے ہوئے پہنچے- گاؤں والوں سے کھانے کو مانگا مگر گاؤں والوں نے کچھ کھلانے سے انکار کردیا گاؤں میں حضرت خضر کو ایک دیوار نظر آئی جو عنقریب گرنے والی اور جھکی ہوئی تھی حضرت خضر نے اسے اپنے ہاتھ سے سیدھا کردیا حضرت موسیٰ نے کہا کہ اول تو گاؤں والوں نے ہماری مہمانی نہیں کی پھر آپ نے ان کے ساتھ یہ بھلائی کہ ان کی دیوار کو سیدھا کردیا کچھ مزدوری لینا چاہئے تھی حضرت خضر نے کہا کہ یہ میرے اور تمہارئے درمیان جدائیگی کا وقت ہے ﷲ تعالیٰ کے قول ( ذَلِکَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا الخ) تک آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خضر کے کاموں پر صبر کرتے اور اس طرح ﷲ تعالیٰ ان کی کچھ اور باتوں کی بھی خبر دیتا سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اس آیت میں ( وَکَانَ أَمَامَهُمْ مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ الخ) کی جگہ امامھم اور سفینتہ کے آگے صالحتہ پڑھتے تھے اور اس آیت کو (وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ الخ) اس طرح پڑھتے تھے (وَأَمَّا الْغُلَامُ فَکَانَ کَافِرًا وَکَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ الخ-)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment