کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
(اللہ تعالیٰ کا قول کہ) اسی طرح بنایا ہم نے تم کو امت وسط۔
حدیث نمبر
4140
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْعَی نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ يَا رَبِّ فَيَقُولُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لِأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَکُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ فَيَقُولُ مَنْ يَشْهَدُ لَکَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ وَيَکُونَ الرَّسُولُ عَلَيْکُمْ شَهِيدًا فَذَلِکَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِکْرُهُ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُهَدَائَ عَلَی النَّاسِ وَيَکُونَ الرَّسُولُ عَلَيْکُمْ شَهِيدًا وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ
یوسف بن راشد، جریر، ابواسامہ، اعمش، ابوصالح(دوسری سند) ابواسامہ، ابوصالح، حضرت ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ﷲ تعالیٰ نوح علیہ السلام کو بلائیں گے وہ آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے رب! میں حاضر ہوں ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تم نے ہمارے احکامات کو لوگوں تک پہنچا دیا تھا؟ کہیں گے جی ہاں! اس کے بعد ان کی امت سے دریافت کیا جائے گاکہ تمہارے پاس خدا کے احکاما ت لے کر کوئی رسول آیا تھا یا نہیں؟ امت کہے گی نہیں آیا، رب فرمائے گا تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے کہ حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت اس وقت میری امت گواہی دے گی کہ بے شک نوح علیہ السلام نے احکام الٰہی کی تبلیغ کی تھی اور میں کہوں گا کہ یہ سب لوگ سچے ہیں- راوی کا بیان ہے کہ ﷲ تعالیٰ کے اس کا قول کا مطلب یہی ہے اور سط کے معنی عدل کے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment