کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب تم نے اس جھوٹی بات کو سنا۔
حدیث نمبر
4401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ قَالَتْ أَخْشَی أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ فَقِيلَ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ قَالَتْ ائْذَنُوا لَهُ فَقَالَ کَيْفَ تَجِدِينَکِ قَالَتْ بِخَيْرٍ إِنْ اتَّقَيْتُ قَالَ فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَائَ اللَّهُ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْکِحْ بِکْرًا غَيْرَکِ وَنَزَلَ عُذْرُکِ مِنْ السَّمَائِ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلَافَهُ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَی عَلَيَّ وَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا
محمد بن مثنیٰ، یحییٰ بن سعید بن ابی حسین، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی یعنی عالم نزع تھا کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ملنے کی اجازت مانگی حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کچھ تامل کیا! اس خوف سے کہ وہ میری تعریف کریں گے- آخر سب نے کہا کہ اجازت دینا چاہئے کہ یہ سب آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور بہت نیک ہیں ابن عباس آئے اور حال دریافت کیا حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اگر میں نیک ہوں تو اچھی ہوں ابن عباس نے کہا کہ آپ ضرور اچھی ہیں کیونکہ رسول پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں آپ نے بجز تمہارے کسی کنواری سے شادی نہیں کی آپ کے حق میں ﷲ نے آیات نازل کیں اس کے بعد حضرت ابن زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھنے آئے تو حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے ان سے فرمایا کہ ابن عباس آئے تھے اور بہت تعریف کر رہے تھے مگر مجھے تو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ میں گمنام اور بھولی بسری ہوتی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment