کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ یہ تم نے اپنے لئے ایک حیلہ بنایا ہے۔
حدیث نمبر
4338
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ الْحَدِيثِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ قُلْتُ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ الْعَشْرَ الْآيَاتِ
عبدالعزیز بن عبد ﷲ، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حجاج، عبد ﷲ بن نمیر، یونس بن یزید الایلی، زہری، عروہ بن زبیر و سعید بن مسیب و علقمہ بن وقاص و عبید ﷲ بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی وہ حدیث جو کہ افک کے متعلق ہے پوری نہیں سنی ہے بلکہ ہر ایک سے الگ الگ اس کے کچھ حصے سنے ہیں چناچہ اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جب بہتان باندھنے والوں نے تہمت لگائی تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ اے عائشہ! اگر تم بے قصور ہو تو ﷲ تعالیٰ تمہاری بریت کا اظہار کردے گا اور اگر تم سے یہ گناہ ہوگیا ہے تو پھر ﷲ سے توبہ اور معافی مانگنا چاہئے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ و ﷲ مجھے اس کے لئے کوئی مثال نہیں ملتی ہے سوائے حضرت یعقوب علیہ السلام کے کہ انہوں نے یہ کہا تھا اور میں بھی وہی کہتی ہوں کہ (فصبر جمیل و ﷲ المستعان علی ما تصفون الخ) آخر ﷲ نے میری بے قصوری کے سلسلہ میں دس آیات نازل فرمائیں جن کی ابتدائی آیات یہ ہیں (ان الذین جاؤا بالافک الخ-)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment