کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
کیاحاکم غصہ کی حالت میں فیصلہ کرسکتا ہے یا فتوی دے سکتا ہے؟
حدیث نمبر
6674
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْکَرْمَانِيُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ابن عَبْدَ اللَّهِ عن عبدالله ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَکَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِکْهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ فَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَاقال ابوعبد الله محمد هوالزهری
محمد بن یعقوب کرمانی، حسان بن ابراہیم، یونس، محمد، سالم، عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بیان کیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پرغصہ میں آئے اور فرمایا کہ اس کو چاہیے کہ رجوع کرے اور اسے اپنے پاس رہنے دے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھرحیض آئے اور پاک ہوجائے پھر اگر طلاق دینا چاہے تو اس کو طلاق دے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment