کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
احکام کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے خیال کیا کہ قاضی کولوگوں کے معاملہ میں اپنے حلم سے فیصلہ کرنے کا اخیتارہے۔
حدیث نمبر
6675
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَائَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کَانَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِکَ وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِکَ ثُمَّ قَالَتْ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيکٌ فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أُطْعِمَ مِنْ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ لَهَا لَا حَرَجَ عَلَيْکِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ مِنْ مَعْرُوفٍ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہند بن عتبہ بن ربیعہ آئیں اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خدا کی قسم روئے زمین پرکوئی خیمہ والا نہیں تھا کہ جس کے متعلق مجھے پسند ہو کہ آپ کے خیمہ والوں سے زیادہ ذلیل ہوا اورآج یہ حال ہے کہ روئے زمین پر کوئی خیمہ والا ایسا نہیں جس کے متعلق مجھ پسند ہو کہ آپ کے خیمہ والے زیادہ معزز ہوپھر عرض کیا کہ ابوسفیان ایک بخیل آدمی تھا تو کیا میرے لئے کوئی حرج ہے اس بات میں کہ اپنے بچوں کو اس کے مال سے کھلاؤں آپ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اگر تو اس کو دستور کے مطابق کھلائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment